15 اگست 2026 - 16:10
عراقچی: امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کا ذکر تھا، تاہم امریکہ کی جانب سے اس یادداشت کی خلاف ورزی کے بعد دوبارہ جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں ’’جنگ کے خاتمے‘‘ کا اعلان کیا گیا تھا، نہ کہ جنگ بندی کا۔

عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ نے اس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد دوبارہ جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اس لیے ایسی کوئی 60 روزہ جنگ بندی موجود نہیں تھی جس میں توسیع کی ضرورت ہو۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جس 60 روزہ مدت کا ذکر کیا گیا تھا، وہ جنگ بندی کی مدت نہیں بلکہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کا موقع تھا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ بالواسطہ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ قطر اور پاکستان ثالث کی حیثیت سے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں اور ایران سے رابطے میں ہیں، تاہم ان رابطوں کو مذاکرات قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

عراقچی نے عمان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان بات چیت جاری ہے، تاہم یہ معاملہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے بالکل الگ ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک فنی اور تکنیکی معاملہ ہے جس کا تعلق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے سمندری راستوں کے تعین سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پہلے استعمال ہونے والے راستے اب قابلِ استعمال نہیں رہے، اس لیے ایک نیا راستہ متعین کرنا ہوگا۔ فی الحال ایک عارضی بحری راستہ تیار کیا جارہا ہے جسے بعد میں حتمی راستے میں تبدیل کیا جائے گا۔

عراقچی نے کہا کہ اس حوالے سے دونوں ممالک کے ماہرین کے درمیان فنی مذاکرات جاری ہیں اور مسلح افواج بھی اس عمل میں شامل ہیں، کیونکہ اس معاملے میں وہ بنیادی ماہر فریق ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے بحری راستے کے تعین اور آبنائے کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ دو الگ امور ہیں۔ ان کے مطابق پہلے بحری راستے کا تعین کیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ دیگر شرائط کی تکمیل سے مشروط ہوگا، جن کی پابندی امریکہ کو کرنا ہوگی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha